Tuesday, August 11, 2015


کیا آپ آزاد ہیں؟

پاکستان ۔۔جس کی آزاد ی کا جشن بڑے دھوم دھام سے منایا جارہا ہے
مگر کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا ہمارے بچے محفوظ ہیں؟
کیا ہم گزشتہ برس پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کو بھول چکے ہیں؟ جس میں  145 جانیں لے لی گئیں 
کہتے ہیں کہ مارنے والے طالبان تھے جنہوں نے   10سے 16 سال کے بچوں کے گلے بھی کاٹے اور انہیں فاءرنگ  کر کے قتل کیا

جو  بچ گئے، وہ زندہ لاش بن چکے ہیں،طالبان نے   اس حملے میں کئی گھرانوں کی نسلیں مٹا دیں

جب پانی سرسے اوپر ہوگیا تو طالبان کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع  کیا گیا،جو کافی کارگر بھی ثابت ہوا،
مگر میرا سوال ہے ملک میں امن قائم کرنے والے سیکیورٹی اداروں سے کہ ملک میں گھس کر امن کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والوں کو تو آپ نے لگام دے دی ۔۔لیکن   اس ناسور کا کیا کیجیے گا جو آپ کے گھر وں،محلوں،مدرسوں،اسکولوں،مساجد تک میں گھسا ہوا ہے،،
ناسور ۔۔ایک ہوس کا۔۔ناسور جنسی بھوک کا۔۔ناسور بے حسی کا!
   کیا لوگ  لاہور کے اس   سیریل کلرجاوید اقبال کو بھول گئے جس نے نوے کی دہائی میں ایک نہ دو  پورے 100 بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا اور ان کی لاشوں کو تلف کرنے کے لیے تیزاب کا استعمال کیا تھا،ان بچوں کی

 عمریں 6سے 16سال کے درمیان تھیں، یہ درندہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان بچوں کو سڑک پر سے اٹھاتا تھا یا پھر ان بچوں کو پکڑتا تھا جو گھر سے بھاگے ہوئے  ہوتے تھے،اس  کی لاہور میں وڈیو گیم کی دکان تھی جس کے زریعے وہ بچوں کو اپنی جانب راغب کرتا تھا،جاوید اقبال کو اپنے کیے پر کوءی پچھتاوا نہیں تھااس نے اعتراف جرم بھی کیا عدالت نے اسے سزا بھی سناءی لیکن اس نے جیل میں خود کشی کرلی۔
کیا ہم تھر کے ان معصوموں کو بھول گئے ؟  وہ 361معصوم بچے،،جو   حکومت کے غیر زمہ دارانہ رویے کی بھینٹ چڑھ گئے
تھر میں آنے والے قحط نے سیکڑوں لوگوں کی جان لے لی ۔ جس میں بڑی تعداد نو مولود بچوں کی تھی اور ہمارے ایور گرین وزیر اعلیِ سندھ کہتے ہیں کہ ان بچوں کی اموات کا قحط سے کوءی تعلق نہیں  ان داءیوں کی غلطی ہے جن کی وجہ سے زچکی میں پیچیدگیاں ہو جاتی ہیں اور بچے مر جاتے ہیں!
 اور اب حال ہی میں پنجاب کے شہر قصور میں  سامنے آنے والا واقعہ جس نے سب کے سر شرم سے جھکا دیے
قصور کے گاوں حسین خان والا میں ہونے والا واقعہ ،جس نے ہر شخص کو ہلا کے رکھ دیا،،،280    بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی  کے واقعات  ، جن کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان ہیں اور یہ سلسلہ آج کا نہیں،،یہ گھناونا کھیل کئی سالوں سے کھیلا جارہا ہے،ان بچوں  کو جیتے 
جی مار دیا گیا   
یا اگر یہ کہا  جائے
  کہ حسین خان والا کے باسیوں کے بچوں کا بچپن ،،بچپن میں ہی کچل دیا گیا تو غلط نہ ہوگا

 اطلاعات ہیں کہ صرف قصور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے ایسے بہت سے شہر ہیں جہاں بچوں کے ساتھ یہ جنسی کھیل کھیلا جاتا ہے
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستا ن کے دس ٹاپ ٹین شہروں میں پنجاب کے  شہر وں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے،اور اس پر وزیر قانون بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ اس خبر کو میڈیا زیادہ اچھال رہا ہے،،یہ تو عام سی بات ہے،،
رانا صاحب! کیا آپ   کے ساتھ بھی ایسی زیادتی بچپن میں ہوئی  تھی جو اب آپ ان معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو اتنا ایزی لے رہے ہیں؟
سب نے گھر بیٹھے بیٹھے ہی مذمتی بیانات دے دیے
چلیے حکومتی موقف تو چھوڑیے،،،، یہاں تو کسی مولوی کا فتوی بھی نہیں آیا، ،،ہاں اب کے جو سیلاب  یا زلزلہ یا  کوئی قدرتی آفت  کا سامنا ہوا تو یہ سب یہ کہیں گے کہ اللہ کا عزاب ہے!
مگر اللہ کا عزاب ان پر کیوں جن کے اچھوں کو بھی نہیں معلوم  کہ پنجاب کے کون سے شہر کے کون سے دیہات  میں کون سا گھناونا جرم ہورہا ہے!
اور بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی صرف پنجاب تک ہی مرکوز نہیں بلکہ یہ گھناونا عمل اس ملک کے کونے کونے میں ہورہا ہے،کراچی جیسا بڑا شہر بھی اس سے محفوظ نہیں،،ایسے بہت سے واقعات روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں جہاں ڈرائیور ز،،،اور   میڈز اس گھناونے جرم میں ملوث ہیں اور اپنی ھوس کا نشانہ ان معصوموں کو بناتے ہیں جنہیں ان کے مصروف والدین میڈز اور ڈرائیورز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں،،،
سوچ میں پڑگئے  ناں؟ اور اب آپ یقینا یہی سوچ رہے ہونگے کہ پاکستان کی نئی  نسل کے لیے یہ ملک کیا قتل گاہ بن چکا ہے؟
ہم وہ ہیں جو ایٹم بم بنانے پر سینہ تان کر اکڑ کر گھومتے ہیں،،،اس زعم میں کہ ہمیں کوءی نہیں ہرا سکتا،،لیکن کیا آپ اتنے اہل ہیں کہ اپنے بچوں کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ 
میرا یہ سوال پاکستان کے ہر اس شہری سے ہے جو خود کو آزاد سمجھتا ہے؟؟؟
کیا آپ  واقعی آزاد ہیں؟؟؟